نئی دہلی،8؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش سے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں منتخب ہوئیں تین خواتین رہنما اس بار انتخابی میدان سے باہر ہو گئی ہیں۔ان میں دو مرکزی وزیر سشما سوراج اور لوک سبھا سمترا مہاجن مدھیہ پردیش رہنما رہی ہیں اور تیسری مرکزی وزیر اوما بھارتی اترپردیش سے ایم پی ہیں، لیکن ان کا ناطہ مدھیہ پردیش سے ہے اور وہ ریاست کی وزیر اعلی رہ چکی ہیں۔خاص بات یہ کہ تینوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہیں اور تینوں نے آئندہ لوک سبھا انتخابات لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ریاست سے لے کر قومی سیاست میں مدھیہ پردیش کے ودیشا پارلیمانی سیٹ سے ایم پی سشما سوراج، اندور کی رہنما سمترا مہاجن اور ریاست کے ٹیکم گڑھ ضلع میں پیدا ہونے والی اور سابق وزیر اعلی اور اس وقت اتر پردیش کے جھانسی سے ممبر پارلیمنٹ مرکزی وزیر اوما بھارتی کی خاص پہچان ہے۔لوک سبھا سمترا مہاجن اندور پارلیمانی سیٹ سے مسلسل آٹھ بار منتخب ہوتی آ رہی ہیں۔ انہوں نے پہلی بار 1989 میں جیت درج کی تھی اور اس کے بعد سے یہ سیٹ بی جے پی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔بی جے پی نے 75 سال کی عمر سے تجاوز کر چکے لیڈروں کو امیدوار نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے سمترا مہاجن نے خود الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔انہوں نے جمعہ کو ایک خط لکھ کر الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کیا۔ودیشا پارلیمانی سیٹ بھی بی جے پی کا گڑھ ہے۔مرکزی وزیر سشما سوراج گزشتہ دو انتخابات سے ودیشا کی نمائندگی کرتی آ رہی ہیں، مگر صحت کی وجوہات سے انہوں نے پہلے ہی آئندہ انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ودیشا سیٹ پر سال 1967 کے بعد سے اب تک ہوئے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو صرف دو بار سال 1980 اور 1984 میں جیت مل پائی تھی۔دونوں بار کانگریس کے امیدوار پرتاپ شرما جیتے تھے۔اس پارلیمانی سیٹ پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سال 1991 میں جیتے تھے۔واجپئی تب ودیشا اور لکھنؤ دونوں جگہ سے الیکشن لڑے تھے۔بعد میں انہوں نے ودیشا سے استعفی دے دیا تھا۔